دختر کشی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بیٹی کو ہلاک کرنے کا عمل، بیٹی و جان سے مار دینا۔ "حقیقی دختر کشی کا باقاعدہ رواج، ارادی اسقاط حمل کے مثل بہت کم ہو گیا"      ( ١٩٤٠ء، معاشیات ہند (ترجمہ)، ١٠٢:١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم جامد 'دُخْتَر' کے ساتھ 'کشن' مصدر سے فعل امر 'کُش' لگا کر 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگائی گئی ہے اردو میں ١٩٠٦ء کو "الکلام" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بیٹی کو ہلاک کرنے کا عمل، بیٹی و جان سے مار دینا۔ "حقیقی دختر کشی کا باقاعدہ رواج، ارادی اسقاط حمل کے مثل بہت کم ہو گیا"      ( ١٩٤٠ء، معاشیات ہند (ترجمہ)، ١٠٢:١ )

جنس: مؤنث